کورونا کے مریض دنیا میں کہاں کہاں ہیں؟

نیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور جہاں اب چین میں اس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے وہیں یورپ اس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔

اب تک یہ مرض دنیا کے 145 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

درج ذیل نقشے کی مدد سے جانیے کہ دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد کیا ہے اور کون سے ملک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کا عالمی پھیلاؤ مارچ 16, 2020

یہ پیشکش جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا سنیپ شاٹس پر مبنی ہے اور ممکن ہے کہ اس میں تازہ ترین صورتحال نہ بتائی جا رہی ہو

کل مصدقہ مریضکل اموات
169,4256,513

کورونا وائرس: بچوں کو کورونا وائرس کے متعلق بتانا ہے، ڈرانا نہیں ہے

people in bazar wearing mask

کورونا وائرس یا کووڈ 19 کی عالمی تباہی کی لپٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ یہ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے اور چین سے لے کر امریکہ تک متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ اس میں ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگہوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔

پر یہاں سب سے بڑا مسئلہ والدین، خصوصی طور پر کام کرنے والے والدین کا ہے کہ وہ کس طرح بچوں کو سمجھائیں کہ یہ وائرس کیا ہے، کتنا خطرناک ہے اور اس سے کیسے بچنا چاہیئے۔ بچے بچے ہوتے ہیں، چیزیں اپنی طرح سے سمجھتے ہیں اور ہر کوئی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تو پھر ہم بچوں کو کیسے بتائیں؟

بچوں کے ساتھ کورونا وائرس کے متعلق گفتگو کرنے سے اجتناب نہ کریں

زیادہ تر بچوں نے اس وائرس کے متعلق پہلے ہی سنا ہو گا یا انھوں نے لوگوں کو ماسک پہنے چلتے پھرتے دیکھا ہو گا۔ سو والدین کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اس پر بات کرنے سے ہچکچائیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح والدین بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق کوئی خبر سمجھا سکتے ہیں شاید دوسرے نہیں سمجھا سکتے۔ وہ آپ کی بات سنتا، سمجھتا اور سوال کرتا ہے۔

No tags for this post.